مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے نومنتخب صدر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کا تعلق پونچھ کے ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی سماجی، تعلیمی اور سیاسی خدمات کئی نسلوں پر محیط ہیں۔ ڈاکٹر نجیب نقی 24 ستمبر 2026 کو 32 ووٹ حاصل کرکے آزاد کشمیر کے صدر منتخب ہوئے اور اسی روز اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھایا۔
ڈاکٹر نجیب نقی کے دادا کرنل خان محمد خان، جنہیں ’’بابائے پونچھ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، نے 1934 میں سدھن ایجوکیشنل کانفرنس قائم کی اور ’’مٹھی بھر آٹا‘‘ اسکیم شروع کی۔ اس اسکیم کے تحت گھرانوں سے آٹا جمع کرکے اسے فروخت کیا جاتا اور حاصل ہونے والی رقم تعلیمی سرگرمیوں اور اداروں کے قیام پر خرچ کی جاتی تھی۔ اس دور میں یہ اقدام پونچھ میں تعلیم کے فروغ کے لیے اہم سماجی کوششوں میں شمار ہوا۔
کرنل خان محمد خان برطانوی ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دینے کے بعد سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں متحرک ہوئے۔ وہ 1934 میں ریاست جموں و کشمیر کی پرجا سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور 1946 تک اس منصب پر رہے۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی نشست سردار محمد ابراہیم خان کے لیے خالی کی، جو بعد میں آزاد کشمیر کے پہلے صدر بنے۔
ڈاکٹر نجیب نقی کے والد کرنل محمد نقی خان بھی فوج سے وابستہ رہنے کے بعد آزاد کشمیر کی سیاست میں آئے۔ انہوں نے وزیر صحت و خوراک سمیت مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔ 1990 میں انتخابی مہم کے دوران ان کے انتقال کے بعد ڈاکٹر نجیب نقی نے عملی سیاست میں قدم رکھا اور 1991 میں پہلی مرتبہ آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
ڈاکٹر نجیب نقی نے تین دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط سیاسی سفر کے دوران آزاد کشمیر اسمبلی کے رکن، کشمیر کونسل کے رکن اور صحت، تعلیم، اطلاعاتی ٹیکنالوجی، خزانہ اور منصوبہ بندی و ترقی سمیت مختلف محکموں کے وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ ان کا صدر آزاد کشمیر منتخب ہونا پونچھ سے تعلق رکھنے والے اس خاندان کی طویل عوامی و سیاسی روایت کی ایک نئی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔