اسلام آباد: 1992 میں گوجرانوالہ کا ایک خاندان اسلام آباد میں بری امامؒ کے مزار پر زیارت کے لیے آیا ہوا تھا۔ رات کے وقت تقریباً دو سالہ معصوم بچہ محمد صدیق اپنے ماں باپ کے درمیان سونا پڑا تھا۔ رات کی تاریکی میں جب والدین کی آنکھ لگی تو اسی دوران کوئی نامعلوم شخص ان کے درمیان سے بچے کو چپکے سے اٹھا کر لے گیا۔ صبح جب والدین جاگے تو ان کا دو سالہ جگر کا ٹکڑا غائب تھا۔ انہوں نے مزار اور آس پاس کے تمام علاقوں میں تلاش اور پوچھ گچھ کی، لیکن بچے کا کہیں بھی سراغ نہ مل سکا۔

اصل میں ایک عورت بچے کو اُٹھا کر اسے اسلام آباد سے دور سرگودھا کے قریب "جھانوریا” نامی گاؤں لے گئی تھی۔ وہاں اس کا اصل نام بدل کر "محمد آصف” رکھ دیا گیا۔ بچہ اتنا چھوٹا تھا کہ وقت کے ساتھ وہ اپنے حقیقی والدین اور اصل شناخت بھول گیا۔ چند سال بعد اس گھر میں موجود ایک اور لڑکے نے بعد میں آصف کو بتایا کہ وہ دونوں کو اُٹھا کر کے لائے گئے ہیں۔ گائوں والوں کو بھی شک ہوا کہ ان بچوں کی شکلیں ان کے والدین سے نہیں ملتیں۔ گاؤں والوں کی جانب سے شک اور سوالات اٹھائے جانے پر وہ خاندان گاؤں چھوڑ کر منتقل ہو گیا۔

تقریباً 9 یا 10 سال کی عمر میں آصف وہاں سے نکل کر دوبارہ جھانوریا آ گیا۔ وہاں مہر عمر نامی وکیل اور ان کے خاندان نے اسے سہارا دیا، پرورش کی اور اسکول بھیجا۔ بعد میں آصف نے الیکٹریشن کا کام سیکھا، اپنی محنت سے گھر خریدا اور 2017ء میں شادی بھی کر لی، لیکن وہی بات کہ دل میں اصل والدین کی تلاش کی تڑپ ہمیشہ زندہ رہی۔

ایک دن آصف نے سنار کی دکان پر ایک شخص سے اپنی کہانی بیان کرنے کے بعد، اس کا رابطہ بچھڑے خاندانوں کو ملانے والے سماجی کارکن ولی اللہ معروف سے ہوا۔ آصف کے پاس کوئی تصویر یا پتہ نہیں تھا، بس چند یادیں تھیں: 1992، بری امام، دو سالہ بچہ۔ ولی اللہ معروف نے 20 جون 2025ء کو سوشل میڈیا پر ویڈیو شیئر کی۔ ویڈیو دیکھ کر گوجرانوالہ کا ایک خاندان سامنے آیا۔ سچائی کا پتہ لگانے کے لیے ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کروایا گیا، جو مکمل طور پر میچ ہو گیا۔

بالآخر جیو نیوز کے پروگرام "جرگہ” میں 32 سال بعد یہ تاریخی اور رقت آمیز ملن ہوا۔ سرگودھا سے آنے والا محمد آصف واقعی گوجرانوالہ کے خاندان کا وہی بچھڑا ہوا بیٹا محمد صدیق ثابت ہوا۔ تین دہائیوں قبل جن والدین کے درمیان سے دو سال کا بچہ غائب ہوا تھا، انہوں نے 32 سال بعد اپنے جوان اور شادی شدہ بیٹے کو گلے سے لگا لیا۔