تحریر: جہانزیب امان
سب سے آگے چلنے والا جانتا تھا کہ واپسی کا راستہ شاید اس کے لیے نہیں، پھر بھی اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا، کیونکہ اس کے پیچھے پوری ٹیم اور کروڑوں بے خبر سونے والے تھے۔
8 اکتوبر کی وہ کالی رات جب شہر گہری نیند میں تھے، بلوچستان کے ضلع ژوب کے علاقے سانبازہ میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن شروع ہوا۔ اس کی قیادت SSG کی پہلی کمانڈو بٹالین "یلدرم” کے میجر سید علی رضا کر رہے تھے۔ "یلدرم” کا مطلب بجلی کی کڑک ہے، اور اس رات یہ نام اپنے معنی پر پورا اترا۔ 132 پی ایم اے لانگ کورس کے اس افسر نے وہی فیصلہ کیا جو سچے کمانڈر کرتے ہیں: حکم دینے کے بجائے ٹیم کے ساتھ اگلی صفوں سے لیڈ کیا۔ اس معرکے میں وہ اور ان کے ساتھی حوالدار نثار احمد جامِ شہادت نوش کر گئے۔
اس عمر میں عام نوجوان اپنے کیریئر اور خوابوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، مگر علی رضا نے وردی کی لاج رکھنے کو ترجیح دی۔ انہیں بہادری کے اعتراف میں تمغۂ بسالت سے نوازا گیا۔ لیکن ہر تمغے کے پیچھے ایک ماں کی دعا اور ایک گھر کی خاموشی ہوتی ہے۔ آج تین سال بعد بھی کسی در پر وہ انتظار باقی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ہم "شہید” کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں، مگر پیچھے رہ جانے والوں کے لیے ہر دن ایک نیا امتحان ہے۔
ایک منصفانہ اور آزاد نظر سے دیکھیں تو شہداء کو خراجِ عقیدت کا حق یہی ہے کہ ہم صرف سالانہ تقریبات اور سوشل میڈیا پوسٹس پر نہ رکیں۔ ان کے خاندانوں کی عملی دیکھ بھال، ان کے بچوں کی تعلیم اور وقار کے ساتھ ان کی کفالت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنا ان کی قربانی کا ذکر۔ یہ سوال بھی جائز ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اتنی قربانیوں کے بعد مستقل امن کے لیے سیاسی، سماجی اور ترقیاتی کوششیں کتنی مضبوط ہوئیں، کیونکہ بندوق دشمن کو روکتی ہے مگر پائیدار امن انصاف، تعلیم اور مواقع سے آتا ہے۔ اس سوال سے شہداء کی قربانی کی قدر کم نہیں ہوتی، بلکہ یہ ان کے لہو کو رائیگاں نہ جانے دینے کی ایک کوشش ہے۔
میجر علی رضا اور حوالدار نثار احمد آج ہم میں نہیں، مگر ان کی قربانی ہر اس بچے کے سکون میں زندہ ہے جو رات کو بے خوف سوتا ہے۔ ان کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ وطن کوئی نقشہ نہیں، یہ وہ مٹی ہے جس کی حفاظت کے لیے کسی ماں نے اپنا بیٹا دیا۔ آئیے آج عہد کریں کہ ان کا نام صرف دیواروں اور پوسٹرز پر نہیں، ہمارے کردار، دیانت اور ایک دوسرے کے لیے محبت میں بھی زندہ رکھیں گے۔