اب چھوٹی سے چھوٹی سروس مفت نہیں ہوگی

ائیر لائن کو منافع بخش بنانے کا ” کسٹمرز آر آلویز رانگ” منصوبہ

( سید مجتبی۔(برمنگھم۔ یوکے )

پی آئی اے اپنی نجکاری کے بعد سے مستقل افواہوں کا مرکز رہا ہے۔ یہ اگرچہ اب قومی ایئرلائن نہ سہی لیکن کسی زمانے میں قومی تفاخر کی علامت تھی اسی لئے بہت سے لوگوں کو یہ تشویش ہے کے ماضی میں باکمال لوگوں کو لاجواب سروس فراہم کرنے والی اس ایئرلایئن کا مستقبل کیا ہوگا تاہم گزشتہ ہفتے نئے سی ای او کی نامزدگی کے بعد کافی حد تک اندازہ لگایا جاسکتا ہے کے ایئر لاین کس سمت کی جانب گامزن ہے۔

نئے سی ای او کا تعلق نیوزی لینڈ سے ہے اور انہوں نے ایئر نیوزیلنڈ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور گزشتہ چند برسوں میں متعدد ایئر لائنز کی قیادت کرنے کے بعد انہیں پی آئی اے کا سربراہ نامزد کیا گیا ہے۔ وہ ایئر لاینز کے اخراجات پر کنٹرول، تجارتی نظم و ضبط، آپریشن میں توسیع، ادارے کی تنظیم نو اور سب سے بڑھ کر منافع میں اضافہ کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے ۲۰۲۰ سے ۲۰۲۳ تک محض تین برس کے عرصے میں قازقستان کی آریستان ایئر کا منافع ۵۷ ملین ڈالر سے ۲۲۷ ملین ڈالر تک پہنچادیا۔ وہ آریستان کے علاوہ فلائی افریقہ اور سلام ایئر کے سربراہ بھی رھ چکے ہیں لہزہ اس بات پر شک نہیں ہونا چاہئے کے وہ خساروں کا شکار پی آئی اے کو بھی منافع بخش ادارے میں تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

تاہم اگر موصوف کے کامیاب کیریئر کا جائزہ لیا جائے تو ایئر نیوزی لینڈ کے ساتھ ابتدائی چند برسوں کے سوا کسی بھی فل سروس ایئرلائن کی قیادت یا پالیسی سازی کا انہیں کوئی تجربہ نہیں۔ اعلی عہدوں پر ان کا کل تجربہ لو کاسٹ اور بجٹ ایئر لائنز تک محدود ہے۔ فل سروس ایئر لاینز کے برعکس ان بجٹ ایئر لاینز کا انحصار زیادہ تر مختصر دورانیے کے روٹس پر ہوتا ہے۔ ان کے طیارے عموما چھوٹے اور نشستیں غیر آرام دہ ہوتی ہیں۔ یہ کم قیمت پر ٹکٹ بیچ دیتے ہیں لیکن اس کے بعد سامان، نشستوں کا انتخاب، دوران پرواز کھانے پینے کی اشیا الغرض سردی لگنے پر کمبل فراہم کرنے کی بھی قیمت طلب کرتے ہیں۔ ان ایئر لاینز کی جانب سے فراہم کردہ سروس کا سب سے تاریک پہلو ان کی کسٹمر سروس ہے جو اعلانیہ اس فلسفے کے تحت فراہم کی جاتی ہے کے ” کسٹمرز آر آلویز رانگ”۔ ان ایئر لاینز کے سوشل میڈیا پیجز پر انکی خوشنما پوسٹس کے نیچے متاثرہ کسٹمرز کی جانب سے لعن طعن پر مبنی کومینٹس کی بھرمار ہوتی ہے جسکی انہیں کوئی پرواھ بھی نہیں ہوتی۔

ان بجٹ ایئر لاینز کا فل سروس ایئرلاینز کے مقابلے میں وہی مقام ہے جو لوکل ٹرانسپورٹ میں گرین لاین کے مقابلے میں ڈبلیو گیارہ کا ہے

یہ ایک کامیاب بزنس ماڈل ہے۔ یورپ میں نورس اٹلانٹک، ریان ایئر، ایزی جیٹ اورایئرلنگس، افریقہ میں فلائی افریقہ اور ایئر کایرو اور ایشیا میں ایئر عریبیہ، سلام ایئر جیسی ایئرلاینز واضح مثالیں ہیں۔

بطور فل سروس ایئرلاین پی آئی کے پاس لندن ٹورنٹو اور نیویارک جیسے طویل روٹس موجود ہیں جنکے لئے بڑے کشادہ اور آرام دہ طیارے درکار ہوتے ہیں۔ پی آئی اے کا لگیج الاونس دنیا کی بڑی بڑی ایئر لاینز کے مقابلے میں ممتاز تھا اور یہ ایک بڑی وجہ تھی کے گزشتہ برسوں میں جان بوجھ کر خراب کی جانے والی کارکردگی کے باوجود اوورسیز پاکستانیوں کی بڑی تعداد نے ایئر لاین سے تعلق برقرار رکھا۔

ایڈریان ہملٹن کے ابتدائی چند ماہ میں صورتحال واضح ہوجائے گی کہ موصوف اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے پی آئی اے کو روشن ماضی کی طرف لے جاتے ہیں یا انکی تقرری ایوی ایشن انڈسٹری میں محض ایک منافع بخش ڈبلیو گیارہ کے اضافے کا باعث ہوگی۔