ماسکو، روس (اسلامی و تاریخی خصوصی رپورٹ): روس کی معروف مترجم اور اسلامی علوم سے وابستہ شخصیت ویلیریا پوروخووا کی زندگی علم، تحقیق اور مذہبی وابستگی کی ایک منفرد داستان ہے۔ قبولِ اسلام کے بعد ایمان پوروخووا کے نام سے بھی معروف ہونے والی اس خاتون نے قرآن مجید کا روسی زبان میں ترجمہ کرکے روسی زبان بولنے والے قارئین تک اسلامی تعلیمات پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

ویلیریا پوروخووا 1940 میں پیدا ہوئیں اور ان کا ابتدائی تعلق ایک مسیحی خاندان سے تھا۔ ان کی زندگی میں اہم تبدیلی اس وقت آئی جب وہ اسلامی تہذیب، تعلیمات اور قرآن مجید کے مطالعے سے قریب ہوئیں۔ ایک شامی مسلمان سے شادی کے بعد وہ شام کے دارالحکومت دمشق میں مقیم رہیں، جہاں انہیں اسلامی علوم کا مطالعہ کرنے اور عربی زبان و مذہبی متون کو سمجھنے کا موقع ملا۔

اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر انہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنی زندگی کا ایک اہم حصہ قرآن مجید کے پیغام کو روسی زبان بولنے والے افراد تک پہنچانے کے لیے وقف کر دیا۔ ان کے لیے یہ کام محض زبان کی تبدیلی نہیں تھا بلکہ قرآن مجید کے مفاہیم، پیغام اور ادبی خصوصیات کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کی ایک علمی کوشش بھی تھی۔

پوروخووا کی سب سے نمایاں خدمات میں قرآن مجید کا روسی زبان میں ترجمہ شامل ہے۔ انہوں نے اس منصوبے پر کئی برس محنت کی اور ان کا ترجمہ 1991 میں مکمل ہوا۔ اس ترجمے میں انہوں نے روسی زبان کے ادبی اسلوب اور شعری آہنگ کو استعمال کرتے ہوئے قرآنی معانی کو قارئین کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کی، تاکہ روسی زبان جاننے والے افراد اسلامی تعلیمات کو سمجھنے کے لیے اپنی زبان میں متن سے استفادہ کر سکیں۔

قرآن مجید کا ترجمہ ایک نہایت حساس اور علمی ذمہ داری ہے، کیونکہ اس میں اصل متن کے مفہوم، سیاق و سباق اور معنوی باریکیوں کو دوسری زبان میں منتقل کرنا شامل ہوتا ہے۔ اسی لیے مختلف زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم علمی حلقوں میں مطالعے، تحقیق اور بحث کا موضوع رہے ہیں۔ پوروخووا کی کوشش بھی اسی وسیع علمی روایت کا حصہ تھی، جس کا مقصد قرآن مجید کے پیغام کو ان قارئین تک پہنچانا تھا جو عربی زبان سے واقف نہیں۔

ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ زبان، مطالعہ اور علمی محنت مختلف تہذیبوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ روسی زبان میں قرآن مجید کی ترجمانی کے ذریعے انہوں نے اسلامی تعلیمات اور روسی زبان بولنے والی دنیا کے درمیان ایک علمی تعلق قائم کرنے میں حصہ لیا۔

ویلیریا پوروخووا کی داستان آج بھی اس حوالے سے اہمیت رکھتی ہے کہ مذہبی متون کے تراجم مختلف معاشروں میں فہم، مکالمے اور تہذیبی رابطے کے نئے امکانات پیدا کرتے ہیں۔ ان کی خدمات کو سمجھنے کے لیے ان کے ترجمے کے اسلوب، علمی پس منظر اور قرآن مجید کے مفاہیم کی ادائیگی کا مطالعہ بھی ضروری ہے۔