اسلام آباد: ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اکادمی ادبیات پاکستان سے مقررہ مدت مکمل ہونے پر باوقار انداز میں رخصت لے لی، جس کے بعد ان کی توسیعی مدت سے متعلق زیرِ گردش قیاس آرائیاں بھی ختم ہوگئیں۔

ادبی حلقوں کے مطابق ڈاکٹر نجیبہ عارف نے اپنے دور میں مشکلات کا شکار اکادمی ادبیات پاکستان کو فعال بنانے کے لیے محنت اور عملی اقدامات کیے۔ ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع سے متعلق مختلف اطلاعات سامنے آتی رہی تھیں، تاہم انہوں نے مقررہ وقت پر عہدہ چھوڑ کر اپنی پیشہ ورانہ اصول پسندی کا مظاہرہ کیا۔

ادبی حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نجیبہ عارف کی رخصتی اکادمی ادبیات کی تاریخ میں ایک قابلِ ذکر مثال ہے۔ ان کے مطابق شفیق الرحمن کے بعد یہ دوسری جبکہ کسی خاتون سربراہ کی پہلی باوقار رخصتی قرار دی جا رہی ہے، جو اداروں میں مقررہ مدت اور اصولوں کی پاسداری کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔