اسلام آباد: چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک اور وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ نئے صوبے وقت کی اہم ضرورت ہیں اور صوبہ ہزارہ کا کیس مکمل طور پر تیار ہے، اس لیے اسے فوری طور پر صوبے کا درجہ دیا جانا چاہیے۔
صوبہ ہزارہ تحریک کے مشاورتی اجلاس کے بعد سینیٹر طلحہ محمود کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ پیپلزپارٹی سمیت قومی قیادت کی جانب سے ہزارہ صوبے کی حمایت ریکارڈ پر موجود ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہزارہ صوبے کے قیام کے لیے قومی اسمبلی میں دوبارہ بل اور سینیٹ میں نوٹس پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی ہزارہ صوبے کے قیام کے حق میں تین مرتبہ قرارداد منظور کر چکی ہے، اب معاملہ پارلیمنٹ میں دوبارہ اٹھایا جائے گا۔ ان کے مطابق صوبوں کا قیام کسی سیاسی یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ قومی مفاد میں ہونا چاہیے۔
سردار محمد یوسف کا کہنا تھا کہ ہزارہ صوبہ اور دیگر نئے صوبے ملک کو مزید استحکام دے سکتے ہیں۔
وسائل عوام پر خرچ ہونے چاہئیں: طلحہ محمود
سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ اربوں اور کھربوں روپے کے وسائل کہاں جا رہے ہیں اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والی رقم کہاں خرچ ہو رہی ہے، اس کا کوئی واضح اثر نظر نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ قومی وسائل عوام کی فلاح پر خرچ ہونے چاہئیں اور نئے صوبے بننے کی صورت میں وسائل زیادہ مؤثر انداز میں عوام تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔ طلحہ محمود نے کہا کہ وہ 16 سال سے ہزارہ صوبے کی تحریک چلا رہے ہیں۔
ہزارہ اور بہاولپور صوبے بنانے کا مطالبہ
بریگیڈیئر شہزاد اعوان اور مرکزی کوآرڈینیٹر پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ ہزارہ صوبے کی جدوجہد کا مقصد ملک کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانا ہے۔
رہنماؤں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں انتظامی بنیادوں پر متعدد صوبے یا ریاستیں موجود ہیں، اس لیے پاکستان میں بھی عوامی سہولت اور بہتر حکمرانی کے لیے نئے صوبے بنانے پر غور ہونا چاہیے۔
اجلاس میں رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ہزارہ اور بہاولپور صوبے فوری طور پر قائم کیے جائیں، جبکہ دیگر علاقوں کے لیے بھی نئے صوبوں کے قیام کی ضرورت کا جائزہ لیا جائے۔
پریس کانفرنس کے موقع پر سینیٹر طلحہ محمود، بریگیڈیئر شہزاد اعوان، پروفیسر سجاد قمر، سردار لیاقت کسانہ، قاری محبوب الرحمن اور ماسٹر منیر احمد بھی موجود تھے۔