کراچی: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) دستور نے پاکستان کے نامور، بہادر اور اصول پسند صحافی نثار عثمانی کی صحافتی خدمات اور آزادیٔ صحافت و اظہار کے لیے ان کی طویل جدوجہد کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

پی ایف یو جے کے صدر نواز رضا اور سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ نے کہا کہ نثار عثمانی نے صحافت، صحافیوں کے حقوق اور آزادیٔ اظہار کے لیے ہمیشہ ثابت قدمی سے جدوجہد کی۔ ان کی خدمات اور اصولی مؤقف صحافتی برادری کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

پی ایف یو جے رہنماؤں نے کہا کہ نثار عثمانی کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اصول پسند انسان تھے اور آزادیٔ صحافت سمیت معاشرے کے محروم طبقات کے حقوق کے لیے بھرپور آواز اٹھاتے رہے۔ آمریت کے مشکل ترین ادوار، بالخصوص جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی انہوں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ صحافتی برادری نثار عثمانی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ان اعلیٰ صحافتی اقدار اور میڈیا کی آزادی کے معیار کو برقرار رکھے گی جو بزرگ صحافیوں نے قائم کیے۔

نثار عثمانی کا شاندار صحافتی سفر

نثار عثمانی نے 1953 میں روزنامہ ڈان سے بطور اسٹرنگر صحافتی سفر شروع کیا۔ بعد ازاں ڈان کا لاہور بیورو قائم ہونے پر وہ اس کے بیورو چیف مقرر ہوئے۔ وہ 1991 میں ریٹائر ہوئے، تاہم خصوصی نمائندے کی حیثیت سے اخبار سے وابستہ رہے۔

وہ ترقی پسند صحافی اور معروف ٹریڈ یونین رہنما بھی تھے۔ 1960 کی دہائی میں ایوب خان کے دور میں انہوں نے صحافیوں کے حقوق اور آزادیٔ صحافت کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ پنجاب یونین آف جرنلسٹس اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدر سمیت مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

نثار عثمانی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کے بانی ارکان میں بھی شامل تھے اور انہوں نے ادارے کے وائس چیئرمین اور کونسل ممبر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔

حکومتوں پر بے خوف تنقید اور آزادیٔ صحافت کے لیے آواز بلند کرنے کے باعث نثار عثمانی کو متعدد مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ ایوب خان، ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق کے ادوار سمیت پاکستان کی تاریخ کے مختلف اہم سیاسی ادوار میں ان کی آواز اخباری کالموں اور حکمرانوں کے سامنے ان کے دوٹوک مؤقف کے ذریعے گونجتی رہی۔