تجزیہ : نجم ولی خان

سچ بات یہ ہے کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا۔ دس گھنٹے سے زیادہ مذاکرات مذاق نہیں تھے۔ ایک ایک نکتے پر گفتگو اور بحث و مباحثے کے بعد اتفاق ہو رہا تھا۔

حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ لانگ مارچ اور اس کے بعد خیبرپختونخوا میں دہشتگردی تھا۔ طے پایا کہ معاہدے کے بعد لانگ مارچ کا کوئی جواز نہیں ہو گا۔ پی ٹی آئی کے پاس بھی دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کا موثر حصہ بننے کے خلاف کوئی دلیل نہیں تھی۔ انہوں نے بھی کہا کہ وہ امن چاہتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے دو بڑے مسائل تھے ایک عمران خان سے ملاقات اور دوسرے گورنر راج لگانے کی دھمکیاں۔ حکومت نے عمران خان سے ملاقات کے لئے عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کا وعدہ کیا اور یہ بھی کہ اگر ایک دوسرے سے تعاون ہوتا ہے تو گورنر راج کیسا؟ یہ سب منطقی تھا اور آٹھ نو گھنٹے کی محنت۔

جب محمود اچکزئی کو اس کی خبر ملی کہ اس کے بغیر ہی سب کچھ ہو رہا ہے تو اس نے عمران خان سے پہلے ملاقات کی شرط عائد کر دی اور کہا کہ عمران خان ہی اس اعلامیے کی منظوری دے گا۔ محسن نقوی یہ شرط لے کر صدر مملکت کے پاس گئے، وزیراعظم سمیت اہم حلقوں سے بات کی اور موقف دیا کہ ملاقات تو معاہدے کے بعد ہی ہو گی۔ پی ٹی آئی پہلے لانگ مارچ پر فیصلہ کرے، لانگ مارچ کی دھمکی کے ساتھ ملاقات نہیں ہو سکتی۔ اس کے ساتھ ہی اچکزئی کے اشارے پر سہیل آفریدی بھی دہشتگردی پر تعاون سے مکر گیا اور یوں ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا۔

پی ٹی آئی کے ایک رکن نے کہا کہ ہم معاہدے پر ڈٹے رہے تو پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ہمارے ساتھ شوکت یوسفزئی سے بھی برا حال کرے گا۔ پارٹی کی اصل فیصلہ سازی ہمارے پاس نہیں ہے۔ ہم گالیاں نہیں کھا سکتے اور انہوں نے جو نکات آٹھ نو گھنٹے کی محنت سے تیار کئے تھے ان سے دستبرداری کر لی۔ حکومت نے پیش کش کی کہ ہم کل پھر بیٹھ جاتے ہیں مگر پی ٹی آئی کا وفد خوفزدہ ہو چکا تھا۔

اس پوری ایپی سوڈ میں سب سے شاندار کردار پاک فوج کا رہا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک اور نو مئی کرنے کی تیاریوں کی اطلاعات کے باوجود پاک فوج نے کہا کہ وہ سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی۔ سیاستدان اس مسئلے کو حل کر لیں تو وہ مکمل طور پر سیاسی عمل کے ساتھ ہے۔ پی ٹی آئی نے ایک بڑا سیاسی موقع ضائع کر دیا۔ دہشت گردی میں عدم تعاون نے گورنر راج کو عین آئینی بنا دیا ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی بنیادی ضرورت۔

یہاں یہ بھی ثابت ہو گیا کہ پی ٹی آئی فتنہ الخوارج کو اپنی طاقت اور دہشت گردی کو اپنی سیاسی حکمت عملی کے ٹُول کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ وہ دہشتگردوں کی اتحادی ہے خاص طور پر سہیل آفریدی بارے پاک فوج کی رائے سوفیصد درست ہے جو اس کی تعیناتی پر پریس کانفرنس میں دی گئی اور یہ کہ اچکزئی، پاکستان کو ہر طرح سے افغانستان بنانا چاہتا ہے۔ وہ یہاں فساد چاہتا ہے۔