ٹینیسی: امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کی منتظر 50 سالہ کرسٹا گیل پائیک 30 ستمبر کو دو مرتبہ مہلک انجیکشن دیے جانے کے باوجود زندہ رہیں، جس کے بعد انہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ گواہوں کے مطابق انجیکشن کے بعد بھی وہ سانس لیتی اور خراٹے لیتی رہیں، جبکہ ان کے وکلا نے خون کی رگوں اور انجیکشن کے طریقہ کار سے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں۔
کرسٹا پائیک کو 1995 میں 19 سالہ کولیّن سلیمر کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ وہ اس وقت 18 سال کی تھیں اور ٹینیسی میں دو صدیوں سے زائد عرصے بعد سزائے موت پانے والی پہلی خاتون بننے والی تھیں۔ ان کے وکلا نے بچپن میں مبینہ جنسی زیادتی اور ذہنی مسائل سمیت مختلف عوامل کی بنیاد پر رحم کی اپیلیں بھی کی تھیں۔
واقعے کے بعد ٹینیسی کے گورنر بل لی نے 2026 کے لیے باقی تمام سزائے موت روکنے اور واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ پائیک کے وکلا اب ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ واقعے کے قانونی اور طبی پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں۔