اسلام آباد: پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم اور تحریکِ پاکستان کے اہم رہنما شہیدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی 75ویں برسی آج 16 اکتوبر کو منائی جا رہی ہے۔ انہوں نے قیامِ پاکستان کی جدوجہد میں قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ نمایاں کردار ادا کیا اور آزادی کے بعد نومولود ریاست کی قیادت سنبھالی۔
لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1895 کو کرنال، برطانوی ہند میں ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ کا رخ کیا اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔
انہوں نے 1923 میں عملی سیاست میں قدم رکھا اور آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1936 میں قائداعظم محمد علی جناح کی دعوت پر مسلم لیگ کے اعزازی سیکریٹری جنرل مقرر ہوئے اور تحریکِ پاکستان کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ قائداعظم کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔
قیامِ پاکستان کے بعد 15 اگست 1947 کو لیاقت علی خان نے ملک کے پہلے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔ انہوں نے وزیرِ اعظم کے ساتھ وزیرِ دفاع سمیت اہم حکومتی ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔ ان کے دورِ حکومت میں پاکستان کو انتظامی، معاشی اور آئینی سطح پر متعدد چیلنجز کا سامنا تھا، جبکہ لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری بھی ایک بڑا مسئلہ تھی۔
مقاصد کی قرارداد اور آئینی خدمات
لیاقت علی خان کی سیاسی زندگی کا ایک اہم سنگِ میل 1949 میں مقاصد کی قرارداد کی منظوری تھا۔ انہوں نے 7 مارچ 1949 کو یہ قرارداد دستور ساز اسمبلی میں پیش کی، جسے 12 مارچ 1949 کو منظور کر لیا گیا۔ اس قرارداد نے پاکستان کے مستقبل کے آئینی ڈھانچے کی بنیاد فراہم کی اور جمہوریت، آزادی، مساوات، رواداری اور سماجی انصاف کے اصولوں کو اجاگر کیا۔
خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی لیاقت علی خان نے اہم فیصلے کیے۔ انہوں نے 1950 میں امریکا کا سرکاری دورہ کیا، جبکہ پاکستان کے ابتدائی برسوں میں عالمی سطح پر ملک کے تعلقات اور سفارتی مقام کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔
راولپنڈی میں شہادت
16 اکتوبر 1951 کو لیاقت علی خان راولپنڈی کے کمپنی باغ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کر رہے تھے کہ انہیں گولی مار دی گئی۔ انہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ ان کے قتل نے ملک کی سیاسی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ واقعے میں حملہ آور سید اکبر بھی پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا، جبکہ قتل کے محرکات سے متعلق سوالات تاریخ کا اہم موضوع بنے رہے۔
لیاقت علی خان کو ان کی قومی خدمات کے اعتراف میں ’’قائدِ ملت‘‘ اور ’’شہیدِ ملت‘‘ کے خطابات سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہیں کراچی میں مزارِ قائد کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔
ان کی سیاسی جدوجہد، قیامِ پاکستان میں کردار اور ابتدائی آئینی اقدامات آج بھی پاکستان کی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی برسی کے موقع پر ان کی قومی خدمات اور ملک کے ابتدائی دور میں ادا کیے گئے کردار کو یاد کیا جا رہا ہے۔