تھامسن کے نام اقبال کے درجِ ذیل خط کا حوالہ دے کر اقبال و پاکستان مخالف اصحاب یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اقبال مسلمانوں کے لیے الگ وطن کے حصول کا نصب العین نہیں رکھتے تھے۔ جو اصل حقائق کے مکمل طور پر خلاف بات ہے۔یہ یاد رہے کہ اگرچہ اقبال کی وفات کے بعد مسلمانوں کے لیے آزاد وطن کا نام، نام کی حد تک وہی قبول کر لیا گیا جو چوہدری محمد علی نے تجویز کیا تھا مگر اس وطن کا چوہدری صاحب کے مجوزہ نقشے سے بالکل کوئی تعلق نہیں ہے۔

تھامسن کے نام اقبال کے خط کا بنیادی نکتہ

تھامسن کے نام خط میں اقبال نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ ان کا چوہدری رحمت علی کے اس پاکستان سے کوئی تعلق نہیں جو برطانیہ کی عملداری کے نیچے ہندوستان میں جغرافیائی اکائیوں کے مجموعے میں مسلم اکائیوں کی شمولیت کی بات کرتا ہے۔اور وہ اسے کیمبرج میں بنایا گیا منصوبہ قرار دیتے ہیں۔اور پھر یہ بتاتے ہیں کہ میں نے برطانیہ سے آزاد ہندوستان کی فیڈریشن میں آزاد مسلم ریاست کی بات کی ہے۔اور یہ بات الہ آباد کے خطبے 1930 میں بھی موجود ہے۔ البتہ ڈپلومیٹک بیان دیتے ہوئے انہوں نے خطبے میں تحریر کیے گئے اگلے مراحل کا تذکرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا،جن کے مطابق یہ مسلمانوں کا مقدر تھا کہ انہیں بالآخر شمال مغرب میں ایک آزاد ریاست بنانا پڑے گی۔جہاں مسلمانوں کو موقع ملے گا کہ وہ اسلام کے چہرے سے عرب کلچر کی استعماری چھاپ اتار سکیں۔ تاہم تھامسن کو دیے گئے جواب میں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اقبال چوہدری رحمت علی کے ہندوستان کے اس وفاق میں مسلم اکائیوں کے حصول کے خلاف تھے جو برطانیہ کی عملداری کے ماتحت ہو۔گویا اقبال نے یہ کہا کہ میں برطانیہ سے آزاد ہندوستانی وفاق میں مسلمان ریاستوں کی آزادی کی بات کر رہا ہوں۔

اگلے مراحل والی بات کی استقامت جناح کے نام اقبال کے اس خط 1937سے روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے،جس میں انہوں نے قائدِ اعظم کو دو ٹوک الفاظ میں لکھا کہ کیا اب وقت آ نہیں گیا کہ الگ وطن کا مطالبہ کر دیا جائے۔

تحریر: جلیل عالی