اسلام آباد: سابق وفاقی وزیر داخلہ اور بے نظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں معاون خصوصی رہنے والے جنرل (ر) نصیر اللہ بابر نے جنوری 2001 میں دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے میاں نواز شریف کے والد میاں شریف کی گرفتاری کا حکم دیا تھا، کیونکہ ان کے بقول وہ حدیبیہ کیس میں مرکزی کردار تھے۔ انہوں نے شیخ رشید احمد اور اعجاز الحق کی گرفتاریوں، جیل منتقلی اور سابق صدر آصف علی زرداری سے متعلق بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
روزنامہ جنگ کے لیے اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر دیے گئے اس انٹرویو میں جنرل (ر) نصیر اللہ بابر نے بتایا کہ میاں شریف کی گرفتاری کے لیے ڈائریکٹر جنرل وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) خود لاہور گئے تھے۔ ان کے مطابق، گرفتاری کے وقت میاں شریف نے مزاحمت کی اور اپنی کرسی سے چمٹ گئے، جبکہ انہیں گاڑی میں بٹھانے کے دوران بھی مشکلات پیش آئیں۔
جنرل بابر کے مطابق، میاں شریف کو ابتدا میں جیل منتقل کرنے کے بجائے راولپنڈی کے ایک محفوظ مقام پر رکھا گیا، بعد ازاں طبیعت خراب ہونے پر انہیں کمبائنڈ ملٹری ہسپتال (سی ایم ایچ) منتقل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود میاں شریف کے معالج سے بات کی اور ڈاکٹر کی ہدایت پر انہیں لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنرل بابر نے مزید بتایا کہ شام کے وقت انہوں نے اس وقت کے وزیر خارجہ سرتاج عزیز کو فون کرکے میاں شریف کی رہائی کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا۔
حدیبیہ کیس کا ذکر کرتے ہوئے جنرل (ر) نصیر اللہ بابر نے انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ میاں نواز شریف وزیراعظم بننے کے بعد اس معاملے سے متعلق کمپنی کی ڈائریکٹر شپ سے الگ ہو گئے تھے، جبکہ میاں شریف اور خاندان کے دیگر افراد کے کردار کا بھی ذکر کیا۔ یہ تمام باتیں ان کے انٹرویو سے منسوب ہیں اور ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ عدالتی ریکارڈ اور دیگر مستند دستاویزات کا جائزہ ضروری ہے۔
شیخ رشید احمد کے حوالے سے جنرل بابر نے کہا کہ انہیں ابتدا میں اڈیالہ جیل میں رکھا گیا، تاہم بعد میں بہاولپور جیل منتقل کردیا گیا۔ ان کے بقول، اس اقدام کا مقصد شیخ رشید کو سبق سکھانا تھا۔ انہوں نے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ بے نظیر بھٹو انہیں شیخ رشید کے خلاف سختی کرنے یا ان کے بارے میں روزانہ رپورٹ تیار کرنے کی ہدایات دیتی تھیں۔ جنرل بابر کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے اپنے دورِ اقتدار میں ان کے کام میں مداخلت نہیں کی۔
اعجاز الحق کی گرفتاری سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر) نصیر اللہ بابر نے بتایا کہ انہیں کلاشنکوف کیس میں گرفتار کرکے اڈیالہ جیل میں رکھا گیا تھا، لیکن دو روز بعد انہیں میانوالی جیل منتقل کردیا گیا۔ ان کے مطابق، اعجاز الحق نے اسلحے سے متعلق الزامات پر مختلف مؤقف اختیار کیے اور بعد میں ان کی رہائی کے لیے سفارشیں بھی آنے لگیں۔
جنرل بابر نے مسلم لیگ کے بعض رہنماؤں، جن میں نواز شریف اور چوہدری شجاعت حسین شامل تھے، کے طرزِ عمل کو شائستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اقتدار اور اپوزیشن دونوں ادوار میں ان کے ساتھ احترام سے بات کی۔ انہوں نے سابق احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمٰن سے متعلق ایک واقعہ بھی بیان کیا، جس میں ان کے بقول سیف الرحمٰن فون پر گفتگو کے وعدے کے بعد خود ان کی رہائش گاہ پہنچ گئے تھے۔
آصف علی زرداری کے بارے میں سوال پر جنرل بابر نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دورِ حکومت میں وزیراعظم سیکریٹریٹ میں زیادہ تر معاملات ان کے ذریعے آگے بڑھتے تھے، تاہم دوسرے دور میں زرداری براہِ راست اپنے معاملات کے لیے رابطہ کرتے تھے۔ انہوں نے زرداری کے دوستوں کے اثرات پر بھی تنقید کی۔
جنوری 2001 میں کیا گیا یہ انٹرویو روزنامہ جنگ کے مختلف ایڈیشنوں، بشمول جنگ لندن، میں شائع ہوا تھا۔ فراہم کردہ متن کے مطابق، سرکاری خبررساں اداروں اور دیگر جرائد نے بھی اس انٹرویو کے اہم حصے شائع کیے تھے۔ اس انٹرویو میں بیان کیے گئے الزامات اور واقعات کو جنرل (ر) نصیر اللہ بابر سے منسوب بیانات کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے، نہ کہ ان کی آزادانہ طور پر ثابت شدہ تصدیق کے طور پر۔