اسلام آباد:ـ وزیرآباد کی مٹی نے اردو ادب کو کئی قابلِ ذکر نام دیے، مگر رضیہ بٹ کا نام اس حوالے سے ہمیشہ ایک منفرد شناخت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔ وہ اردو کی مقبول ناول نگار اور افسانہ نگار تھیں جنہوں نے اپنی تحریروں میں معاشرے کے عام کرداروں، بالخصوص عورت کی زندگی، اس کے دکھ، خواب، محرومیوں اور خواہشات کو اس انداز میں پیش کیا کہ لاکھوں قارئین ان کے افسانوی کرداروں میں اپنی زندگیوں کا عکس دیکھنے لگے۔

رضیہ بٹ ان معاصر ادیبوں میں شامل تھیں جنہوں نے اردو فکشن کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ اسے معاشرتی حقیقتوں کی عکاسی کا وسیلہ بنایا۔ ان کی کہانیوں میں زندگی کی تلخ سچائیاں ضرور دکھائی دیتی ہیں، لیکن ان تلخیوں میں مایوسی کے بجائے ایک مثبت احساس، امید اور انسانی جذبے کی جھلک نمایاں رہتی ہے۔ یہی وصف ان کی تحریروں کو عام گھریلو قارئین کے لیے نہایت دلکش بناتا تھا۔

ان کے ناولوں کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کے کردار تھے۔ یہ کردار کسی خیالی دنیا کے باسی محسوس نہیں ہوتے تھے بلکہ ہمارے اپنے گھروں، محلوں اور معاشرے سے اٹھائے گئے معلوم ہوتے تھے۔ ان کی خوشیاں، دکھ، محبتیں، جدائیاں، مجبوریاں اور خواب قاری کو اپنی طرف کھینچ لیتے تھے۔ رضیہ بٹ کے الفاظ میں ایسی سادگی اور اثر انگیزی تھی کہ کہانی آگے بڑھتے بڑھتے قاری کے جذبات کا حصہ بن جاتی تھی۔

قیامِ پاکستان کے بعد ان کا ناول ’بانو‘ منظرعام پر آیا تو اس نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔ یہ محض ایک ناول نہیں تھا بلکہ ایک ایسی داستان بن گیا جس نے ایک پوری نسل کے قارئین کے دلوں پر گہرا اثر چھوڑا۔ برسوں بعد جب ’بانو‘ کو ٹیلی وژن پر پیش کیا گیا تو نئی نسل بھی اس کہانی سے متعارف ہوئی اور رضیہ بٹ کا نام ایک بار پھر لوگوں کی گفتگو کا حصہ بن گیا۔

رضیہ بٹ کو عام گھریلو قارئین میں جو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی، اس کے باعث ان کا موازنہ بعض اوقات برطانوی مقبول ناول نگار باربرا کارٹ لینڈ سے بھی کیا گیا۔ تاہم رضیہ بٹ کی اپنی ادبی شناخت تھی۔ ان کا موضوع پاکستانی معاشرہ، اس کے رشتے، اس کی روایات اور خصوصاً عورت کی زندگی تھی۔

ان کے ناولوں پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ عورت ان کے فکشن کا مرکزی کردار رہی۔ نائلہ، صاعقہ، انیلہ، شبو، بانو، ثمینہ، ناجیہ، شائنہ، سبین، رابی اور بینا جیسے ناولوں میں عورت کی زندگی کے مختلف رنگ سامنے آتے ہیں۔ کہیں وہ محبت کی تلاش میں ہے، کہیں معاشرتی بندشوں سے نبرد آزما ہے، کہیں رشتوں کی پیچیدگیوں میں گھری ہوئی ہے اور کہیں اپنے وجود اور وقار کے لیے جدوجہد کرتی دکھائی دیتی ہے۔

رضیہ بٹ کی تحریروں کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ انہوں نے عورت کو محض مظلوم کردار کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ اسے احساس، ارادے، خواہش اور فیصلے رکھنے والی شخصیت کے طور پر بھی دکھایا۔ ان کے کردار معاشرے کے بدلتے ہوئے رویوں، رشتوں کی نزاکت اور زندگی کے اتار چڑھاؤ سے گزرتے ہوئے اپنے وجود کی معنویت تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔

انہوں نے اپنے قلم سے اردو فکشن میں ایک وسیع دنیا آباد کی۔ ان کے ادبی سفر کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے 51 ناول اور تقریباً 350 کہانیاں لکھیں۔ ان کی سوانح عمری ’بچھڑے لمحے‘ کے نام سے سامنے آئی، جس میں ان کی زندگی اور ادبی سفر کی جھلکیاں محفوظ ہیں۔

رضیہ بٹ کی مقبولیت کا راز شاید ان کی یہی سادہ مگر دل کو چھو لینے والی تحریر تھی۔ وہ مشکل الفاظ اور پیچیدہ اسلوب کے بجائے ایسی زبان میں لکھتی تھیں جسے عام قاری آسانی سے سمجھ سکے اور محسوس بھی کر سکے۔ ان کے ناولوں میں محبت تھی، جدائی تھی، دکھ تھا، معاشرتی ناانصافی تھی، مگر ان سب کے درمیان انسانی زندگی کی امید بھی موجود رہتی تھی۔

4 اکتوبر 2012 کو طویل علالت کے بعد لاہور میں رضیہ بٹ کا انتقال ہوگیا۔ یوں اردو ادب کی ایک مقبول اور منفرد آواز خاموش ہوگئی، مگر ان کے کردار اور کہانیاں آج بھی زندہ ہیں۔ انہیں اپنے آبائی شہر وزیرآباد میں سپردِ خاک کیا گیا۔

وقت گزر جاتا ہے، چہرے دھندلا جاتے ہیں اور آوازیں خاموش ہوجاتی ہیں، مگر کچھ قلم ایسے ہوتے ہیں جن کے الفاظ وقت کی گرد میں بھی گم نہیں ہوتے۔ رضیہ بٹ بھی انہی قلم کاروں میں سے ایک تھیں۔ انہوں نے عورت کے دکھ، اس کے خواب اور اس کی خاموش جدوجہد کو لفظ دیے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں ختم ہونے کے باوجود قاری کے اندر دیر تک چلتی رہتی ہیں۔