مسجد میں چنگیر پر رکھا کھانا اور وہ تاریخی جملہ
کھاؤ، کھاؤ، کھاؤ، غزل یہی نہیں ہوتی! مولانا حسرت کی سادگی کا وہ قصہ جو شورش کاشمیری کبھی نہ بھولے
جواہر لال جس کے سامنے آنکھ نہ اٹھاتا تھا، وہ مسجد میں مٹی کے لوٹے سے پانی پیتا تھا
شورش کاشمیری کا ایک طویل اور نادر انٹرویو معروف براڈکاسٹر شاہ حسن عطا نے لطف اللہ خاں کے مشہورِ زمانہ "آوازِ خزانہ” کے لیے ریکارڈ کیا تھا، جو اب کتابی شکل میں شائع ہو چکا ہے۔
اس انٹرویو میں شورش کاشمیری نے مولانا حسرت موہانی سے اپنی ملاقاتوں کا احوال نہایت دلنشین انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ مسلمانانِ ہند کا یہ عظیم رہنما، جس کے سامنے بھارتی پارلیمنٹ میں پنڈت جواہر لال نہرو بھی آنکھ اٹھانے کی جرأت نہ کرتا تھا اور جس کی ڈانٹ ڈپٹ کو سننا اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھتا تھا، اس کی ذاتی زندگی فقر و سادگی کی اعلیٰ ترین مثال تھی۔
ایک طرف پارلیمنٹ میں للکار، دوسری طرف مسجد میں مٹی کے لوٹے اور چنگیر میں رکھے سوکھے ٹکڑوں پر "بیٹا کھاؤ، کھاؤ، غزل یہی نہیں ہوتی” کہنے والا درویش صفت انسان — یہی حسرت موہانی کا اصل چہرہ تھا۔ آپ انٹر ویو پڑھیے۔
عارف الحق عارف
شاہ حسن عطا
آپ مولانا حسرت موہانی سے بھی ملے کبھی ؟
شورش کاشمیری: مولانا حسرت سے، مولانا حسرت سے دو دفعہ ملا۔
شاہ حسن عطا: وہیں کانپور میں؟
شورش کاشمیری: جی ہاں! ایک دفعہ تو مجھے مولانا ظفر علی خاں نے بھیجا تھا جب شہید گنج کی کانفرنس کی صدارت کا سوال تھا۔ لاہور میں بہت بڑی کانفرنس ہو رہی تھی۔ تو فیصلہ یہ ہوا، مولانا کہنے لگے بھئی حسرت اس کے لیے موزوں آدمی ہیں۔ ایک تو وہ بے داغ آدمی ہیں، بے غرض آدمی ہیں، بے لوث آدمی ہیں۔ انہوں نے اُن کی بہت سی تعریف کی۔ تو کہنے لگے کہ تم چلے جاؤ، میں نے کہا مولانا میرے تو وہ واقف نہیں ہیں، میں تو پہلی دفعہ انہیں دیکھوں گا۔ کہنے لگے، نہیں میں تمہارے ساتھ اُن کا ایک مرید بھیجتا ہوں اُن کا ایک۔ یہاں ہمارے لاہور میں ایک شخصیت تھے، مقامی طور پر بڑے اچھے لیڈر تھے، زندہ دل تھے، جن کا نام میاں فیروز الدین تھا۔موچی دروازے کے اندر رہتے تھے۔ سب سے پہلے محمد علی جناح کو قائدِ اعظم زندہ باد کا نعرہ اُنہی نے لگایا تھا۔ اور وہی اس کے موجد تھے قائدِ اعظم۔ اور قائدِ اعظم بہت خوش ہوئے تھے۔ تقریر وہ بہت اچھی کرتے تھے۔ اور وہ گئے، مولانا اُن کے بہت واقف تھے۔ تو ہم مولانا کے ہاں وہاں کانپور گئے، دروازہ کھٹکھٹایا، آئے۔ "ارے تم کب آئے؟” انہوں نے کہا جی کیسے آئے۔ اچھا آؤ۔ وہ سامنے ایک مسجد تھی اُن کے مکان کے آپ نے دیکھی ہوگی۔ وہاں لے گئے۔ اُن کے یہاں تو کوئی جگہ نہیں تھی بیٹھنے والی ایسی۔ وہاں لے گئے وہاں بٹھایا۔ کہنے لگے بھئی تمہیں کھانا کھانا ہوگا۔ اب ہمیں مسجد میں بٹھا گئے آپ کھانا لینے چلے گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد آئے ایک چنگیر تھی۔ وہ ایک معمولی کھدر کا اوپر رومال تھا اس میں کیا تھا جی دو ایک آلو اور گوشت تھا ایک چھوٹی سی پیالی میں یا پیالے میں، ایک میں دال تھی اور کچھ چپاتیاں تھیں اتنی سی، وہ لے آئے اور لا کر ہمارے سامنے رکھی اور اس کے بعد وہ کہنے لگے میں پانی لے آؤں، وہ مٹی کا جولوٹا تھا مسجد میں وہ بھر کر لے آئے۔ آپ خُورہ لے آئے دو اور کہا چلو کھانا کھاؤ۔ ہمارے ساتھ ہی کھانے لگے ہم نے بھی کھایا۔ اس سادگی کا میں آپ کو سچ کہتا ہوں دل پر ایسا اثر ہوا کہ اگر میں اپنی شاعرانہ طبیعت سے فائدہ اٹھاؤں تو مجھے قرنِ اول کا وہ زمانہ یاد آ گیا تھا جو مسجدِ نبوی میں سرورِ کائنات ﷺ کے گردو پیش اُن کے صحابی بیٹھ کر اس قسم کے دسترخوان میں( کھانا کھاتے تھے )
شاہ حسن عطا: وہ زندگی تھی؟
شورش کاشمیری: وہ زندگی تھی۔ تو کھاتے رہے۔ تو اب یہ کہنا چاہیے کہ طبیعت سیر ہو گئی اور بڑا ہی۔ میں مولانا کی باتیں سنتا رہا اس لیے کہ میں نے اپنی ابتدائی زندگی میں تلفظ کی صحت کے لیے بڑے بڑے آدمیوں کے لب و لہجے پر بہت زیادہ غور کیا ہے۔ اور ہمیشہ کان اسی طرف رکھے ہیں۔ کئی مولانا سے محاورے سیکھے۔ اتنے میں کوئی ایک چودہ پندرہ سال کی لڑکی آئی اور وہ مولانا کے لیے کوئی شاید کوئی سالن اور لائی تھیں، کیا لائی۔ تو غالباً ملازمہ تھی اُن کی یا گھر میں کام کرنے والی۔ جیسے بھی تھی۔ وہ آئی لڑکی۔ تو وہ لڑکی سفید سارنگ تھا۔ نین نقش بھی اچھے تھے، تو اس نے رکھا۔ تو اب میں اس وقت کوئی زیادہ عمر کا نہیں تھا بچہ ہی تھا۔ تو میں نے جو اس لڑکی کو بھر پور نگاہ سے دیکھا۔ تو مولانا کہنے لگے، بیٹا کھاؤ، کھاؤ، کھاؤ! غزل یہی نہیں ہوتی ہے۔ یہ فقرہ مجھے آج تک، کھاؤ، کھاؤ، کھاؤ! غزل یہی نہیں ہوتی ہے۔ تو اتنا بے نفس آدمی، اتنا سچا آدمی، بے ریا آدمی، پرخلوص آدمی اور ایثار و استقامت کا پیکر آدمی کہ جس کی ہر سانس مسلمانوں کے لیے تھی۔ اور جس کا ہر قول مسلمانوں کے لیے تھا۔ جو اس کا اپنا وجود کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ پھر سب سے بڑی بات کہ اس کو میں نے Partition کے بعد ہندوستان کی پارلیمنٹ میں دیکھا۔ جواہر لعل کو وہاں بھی گالیاں دیتے تھے، گالی سے مراد یہ کہ للکارتے تھے، گالی کا مطلب وہ نہیں جو ہمارے لیے، میں نے غلط لفظ بول دیا ہے، یعنی ڈانٹتے تھے اور جواہر لعل اُن کے سامنے آنکھ نہیں اٹھاتا تھا، آنکھیں جھکا لیتا تھا اور مولانا کی ڈانٹ سہہ جاتا تھا اور اُن کا بے پناہ احترام تھا۔
شاہ حسن عطا: حسرت کے بارے میں ایک اور بھی بات آپ کو یقیناً یاد ہوگی کہ سب سے پہلے مکمل آزادی کا جو Resolution کانگریس نے دیا تھا وہ بھی( انہوں نے ہی پیش کیا تھا)
شورش کاشمیری: جی ہاں وہ مجھے معلوم ہے۔
شاہ حسن عطا: نہیں مطلب یہ ہے کہ میں صرف آپ کو یاد دلا رہا ہوں کہ یہ بھی فخر مسلمانوں کو حاصل ہے کہ خود کانگریس کے پلیٹ فارم سے ( ہندستاںن کی انگریزوں سے آزادی کی قرارداد ) پیش ہوئی تھی۔