بھارت کے سابق ہندو پنڈت رام لال، جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام محمد عبداللہ رکھ لیا، نے کہا ہے کہ اب ان کی زندگی میں ایک ہی آرمان باقی رہ گیا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ کی زیارت کریں اور عمرہ کی سعادت حاصل کریں۔
مدھیہ پردیش کی ایک مسجد میں خطاب کرتے ہوئے محمد عبداللہ نے کہا کہ پاسپورٹ اور دیگر سرکاری دستاویزات میں مسلمان کے طور پر نام اور مذہب درج ہونے کے بعد ان کی عمرہ کرنے کی امیدیں مزید بڑھ گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسلام قبول کرنے سے قبل بھی وہ مکہ مکرمہ کے بارے میں سوچتے رہتے تھے اور قرآن مجید سمیت مختلف کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔ ان کے مطابق وہ رات گئے تک ہندی ترجمے کے ساتھ قرآن مجید کا کم از کم ایک گھنٹہ مطالعہ کرتے، جس کے بعد دیگر کتابوں کا تقابلی مطالعہ بھی کرتے تھے۔
محمد عبداللہ نے کہا کہ قرآن مجید کے مطالعے کے دوران انہیں اس کتاب میں موجود گہرائی نے غوروفکر پر مجبور کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قرآن مجید میں بیان کی گئی کئی باتیں آج سائنس کے اعتبار سے بھی درست ثابت ہوتی ہیں، اور چونکہ وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر رہے ہیں، اس لیے وہ ان نکات کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان، ان کی اہلیہ اور بچوں پر رحم فرمایا اور انہیں اسلام کی دولت سے نوازا۔
محمد عبداللہ نے بتایا کہ سابق بھارتی کرکٹر محمد اظہرالدین کے ساتھ ان کے دیرینہ تعلقات ہیں۔ جب انہوں نے اظہرالدین کو اسلام قبول کرنے سے متعلق اپنے خیالات سے آگاہ کیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور انہیں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم کیا ہے، اس لیے اس نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ محمد اظہرالدین نے اپنے ایک عالمِ دین دوست سے رابطہ کیا، جس کے بعد انہیں اسلام قبول کرنے میں رہنمائی ملی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اسلام میں داخل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔
محمد عبداللہ کے مطابق ان کی اہلیہ کے پاسپورٹ میں بھی جلد نام اور مذہب تبدیل ہوجائے گا، جس کے بعد دونوں میاں بیوی عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مکہ مکرمہ جانے کی کوشش کریں گے۔