اسی سسپنس سے پردہ اٹھانے کے لیے امریکی نیوز چینل سی این این (CNN) نے دنیا کے سب سے حساس خطے کے سب سے معتبر فوجی ترجمان یعنی پاکستان کے ڈی جی آئی ایس پی آر (DG ISPR) کو لائیو اسٹوڈیو میں بلا لیا۔ سب جانتے ہیں کہ جب مشرقِ وسطیٰ میں بساط پلٹتی ہے، تو پسِ پردہ پاکستانی فوج کا لوہا مانا جاتا ہے۔
انٹرویو اس قدر سنسنی خیز تھا کہ اس کی ایک ایک سطر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔۔۔۔
سی این این اینکر: "جنرل! یمن کی زمین پر اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ ناقابلِ یقین ہے۔ حوثی جنگجو، جنہیں ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے گوریلا جنگ کی اعلیٰ ترین تربیت دی تھی، وہ آج میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا سامنا دنیا کی خطرناک ترین فورس سے ہو رہا ہے۔ کیا پاکستان کے ایس ایس جی (SSG) کمانڈوز خفیہ طور پر یمن کی زمین پر اتر چکے ہیں۔۔۔۔۔
ڈی جی آئی ایس پی آر (پرسکون لیکن گہری مسکراہٹ کے ساتھ): "دیکھیے، پاکستان کی افواج ہمیشہ سے اپنے برادر ممالک اور اسٹرٹیجک شراکت داروں کی سلامتی کی ضامن رہی ہیں۔ ہم حالات پر کڑی نظر رکھتے ہیں، لیکن ہم کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے””””’
سی این این اینکر (بات کاٹتے ہوئے): "لیکن جنرل! حوثی جنگجو کہہ رہے ہیں کہ ‘ان کے لڑنے کا انداز خطرناک ہے’، وہ رات کے اندھیرے میں پہاڑوں کو چیرتے ہوئے نکلتے ہیں اور یہ مہارت صرف پاکستانی کمانڈوز کی ہے۔ باب المندب میں صرف 24 گھنٹے کے اندر حوثیوں کا صفایا کیسے ہوا؟ کیا یہ پاکستانی بوٹ (Boots on the Ground) نہیں ہیں۔۔۔۔۔۔۔
ڈی جی آئی ایس پی آر (کیمرے کی طرف دیکھتے ہوئے، گرجدار آواز میں): "میدانِ جنگ میں جب کوئی پیشہ ور اور روایتی فوج سامنے آتی ہے، تو کرائے کے جنگجوؤں کی چیخیں نکلنا فطری بات ہے۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ اگر وہاں کوئی ایسی کارروائی ہو رہی ہے جس سے معصوم انسانوں اور سٹرٹیجک راستوں کا تحفظ ہو رہا ہے، تو دنیا کو اس پراسرار طاقت کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ باقی رہی بات ہمارے جوانوں کی… تو پاکستانی فوج جہاں قدم رکھتی ہے، وہاں پھر دشمن کے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے۔ تاریخ گواہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
سی این این اینکر (حیرت زدہ ہو کر): "تو کیا میں آپ کے اس بیان کو ایک خاموش اعتراف سمجھوں؟ کیا پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟”
ڈی جی آئی ایس پی آر: "آپ جو چاہیں سمجھنے کے لیے آزاد ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب خطے کا امن تباہ کرنے والوں کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ جو کوئی بھی حد پار کرے گا، اسے اب ایسی ہی پراسرار اور عبرت ناک قیمت چکانی پڑے گی!