کراچی: وفاقی وزیر مذہبی امور اور چیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام میں مزید تاخیر نہ کی جائے اور سب سے پہلے صوبہ ہزارہ بنایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبہ ہزارہ کا قیام اب ناگزیر ہو چکا ہے اور اس تحریک سے ملک کے پسماندہ طبقات کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

قیوم آباد کراچی میں صوبہ ہزارہ تحریک کے بڑے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے کہا کہ وہ اسلام آباد سے ٹھنڈی ہوائیں لے کر آئے ہیں اور صوبہ ہزارہ کی تحریک ایک مبارک جدوجہد ہے، جو پاکستان کے استحکام اور مضبوطی کا باعث بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل بھی کراچی میں نئے صوبوں کے قیام کی بات کر چکے ہیں، جبکہ کراچی کے ہزارہ وال نے آج کے کنونشن کے ذریعے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کو مزید نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق صوبہ ہزارہ کے حق میں تین مرتبہ قراردادیں منظور ہو چکی ہیں اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں بل بھی جمع کرائے جا چکے ہیں۔

سردار محمد یوسف نے کہا کہ دیگر صوبے بھی بننے چاہئیں، تاہم سب سے پہلے ہزارہ کو صوبے کا درجہ دیا جائے تاکہ عوام کو ان کے حقوق مل سکیں اور اقتدار تک ان کی رسائی آسان ہو۔ انہوں نے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے ملک میں امن و امان کے قیام اور عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بلند کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ معاہدہ عالم اسلام کے استحکام اور مضبوطی کا سبب بنے گا۔

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ نظام کو مضبوط بنانے کا واحد راستہ عوام کو ان کے حقوق دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سولہ سال قبل سینیٹ میں صوبہ ہزارہ کا مطالبہ اٹھایا تھا، تاہم اب پورے پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی آواز بلند ہو رہی ہے۔

سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاوید عباسی نے کہا کہ 2019 میں قومی اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کے قیام کا بل پیش کیا گیا تھا اور اس پر ایوان میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن قربانی دی جائے۔

صوبہ ہزارہ تحریک کے مرکزی کوآرڈینیٹر پروفیسر سجاد قمر نے کہا کہ عوام میں بے چینی بڑھنے سے پہلے نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ہزارہ پاکستان کو تقریباً بارہ ہزار ارب روپے کی بجلی فراہم کر رہا ہے، جبکہ سیاحت کے شعبے میں بہتر بنیادی ڈھانچہ قائم کرکے خطے کی معاشی صلاحیت سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

ممبر قومی اسمبلی ڈاکٹر شائستہ جدون نے بھی صوبہ ہزارہ کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام کو ان کے حقوق دیے جائیں اور اس معاملے پر مزید تاخیر سے گریز کیا جائے۔

کنونشن سے نواب زادہ صلاح الدین سعید، سید جنید قاسم شاہ، بریگیڈیئر شہزاد اعوان، سابق رکن صوبائی اسمبلی میاں ضیاء الرحمن اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ کراچی میں صوبہ ہزارہ تحریک کے رہنماؤں حاجی ذوالفقار تنولی، ارشد اعوان، حاجی خورشید ہزاروی، سردار نذیر، حنیف گوہر، سجاد سنگی اور رفیق ہزاروی سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ کنونشن کے منتظمین میں ماسٹر منیر احمد، خان محمد تنولی اور علی اصغر گوجر شامل تھے۔