( فاروق اقدس/اسلام آباد ): 1973 کا متفقہ آئین 10اپریل کو سٹیٹ بینک بلڈنگ کے ایڈیٹوریم اسلام آباد میں ہوا جہاں اس وقت قومی اسمبلی کے اجلاس ہوتے تھے اس متفقہ آئین کی تیاری سے لے کر منظوری تک کا تمام کریڈٹ پاکستان پیپلز پارٹی سے وابستگی رکھنے والے وفاقی وزیر قانون اور آئینی وپارلیمانی امور عبدالحفیظ پیرزادہ کو دیا جاتا ہے خوش شکل پرکشش مردانہ وجاہت اور بہترین لباس زیبِ تن کرنے رکھنے والے خوش پوش عبدالحفیظ پیرزادہ نے اپنے قائد پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی ایوان میں موجودگی میں متفقہ آئین ایوان میں پیش کیا تو بھرپور کثرت سے منظوری کے بعد ذولفقار علی بھٹو نے انہیں شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے نہ صرف ان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا بلکہ ازراہ تفنن ان کی شخصیت کے حوالے سے انہیں” سوہنا منڈا” کہہ کر بھی شاباش دی جس پر ایوان میں قہقہوں سے گونج اٹھا اور بھٹو صاحب کے یہ ریمارکس پیرزادہ صاحب کے نام کے ساتھ چپک گئے مولانا شاہ احمد نورانی جنہوں نے آئین کی منظوری میں ووٹ نہیں دیا تھا وہ ایوان میں عبدالحفیظ پیرزادہ کو "بھٹو کا سوہنا منڈا "کہہ کر ہی ان کے حوالے سے بات کرتے تھے جس سے ارکان خوب محظوظ ہوتے مولانا شاہ احمد نورانی کے اس طرز عمل سے بیزار ہو کر ایک دن حفیظ پیرزادہ جو پیشگی تیاری کرکے آے تھ سپیکر چوہدری فضل الہی ( جو بعد میں ملک کے صدر بھی بنے) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جناب سپیکر یہ جو مولانا نورانی صاحب اپنے گالوں پر لیموں رگڑ کر پان چباتے ہوئے ایوان میں آ جاتے ہیں انہیں سمجھائیے کہ غیر پارلیمانی الفاظ استعمال نہ کیا کریں حفیظ پیرزادہ کی اس جوابی کاروائی پر ایوان زعفران زار ہو گیا ( یاد رہے کہ ہمہ وقت پان کھانے کے باعث مولانا نورانی کے ہونٹ پان کی لالی سے رچے رہتے تھے جبکہ ان کا چہرہ ویسےبھی چمکتا دمکتا رہتا تھا جس کے دونوں شخصیات میں "سیز فائر” ہو گیا ۔۔عبدالحفیظ پیرزادہ” کثیر الزدواج” کے حوالے سے بھی موضوع بنے رہتے تھے ان کی پہلی بیگم سعدیہ پیرزادہ کا تعلق راولپنڈی سے تھا جو اب دنیا میں نہیں رہیں البتہ ان کی ایک اہلیہ ثمینہ پیرزادہ جو اپنے نام کے ساتھ ثمینہ شاہ بھی لکھتی ہیں اسلام آباد کے ایک فارم ہاؤس میں رہتی ہیں جو حفیظ پیرزادہ نے انہیں تحفے میں دیا تھا خوش شکل اعلی تعلیم یافتہ اور سید گھرانے سے تعلق رکھنے والی ثمینہ پیرزادہ امریکن سینٹر کے کلچر ڈیپارٹمنٹ سے بھی منسلک رہیں اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے سے بھی ان کی وابستگی رہی ان دنوں بھی وہ اپنی سماجی مصروفیات کے حوالے سے پوری طرح فعال ہیں اور سفارتی تقریبات میں بھی باقاعدگی سے نظر اتی ہیں یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ عبدالحفیظ پیرزادہ نے شادی سے پہلے ثمینہ پیرزادہ کی بھٹو صاحب سے ملاقات کرائی تھی اور بھٹو صاحب نے بھی مبینہ طور پر شادی کے لیے ثمینہ شاہ کے انتخاب پر انہیں پیشگی مبارکباد بھی دی تھی۔