اسلام آباد: اردو ادب کے عظیم شاعر، صاحبِ طرز ادیب، خطیب اور مفکر جوش ملیح آبادی کی شخصیت اردو شاعری کی تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔ ان کی شاعری کی گھن گرج، الفاظ کی شان و شوکت، فکر کی وسعت اور اظہار کی بے باکی نے انہیں اردو ادب کی نمایاں شخصیات میں شامل کیا۔ انہیں بجا طور پر شاعرِ انقلاب اور امام الشعراء جیسے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔

جوش ملیح آبادی 22 فروری 1982ء کو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔ ان کے انتقال کے بعد اسلام آباد کے سیکٹر ایچ ایٹ کے قدیمی قبرستان میں انہیں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں ان کے اہلِ خانہ، احباب، عقیدت مندوں اور اہلِ قلم نے انہیں آخری الوداع کہا۔ ان کی نمازِ جنازہ سے متعلق روایات کے مطابق اہلِ سنت اور اہلِ تشیع کی جانب سے الگ الگ نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جو ان کی شخصیت سے وابستہ مختلف فکری اور مذہبی حلقوں کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔

جوش ملیح آبادی کی رحلت کے موقع پر اردو ادب کی ایک اور عظیم شخصیت فیض احمد فیض کا خراجِ عقیدت بھی یاد کیا جاتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ فیض صاحب بیرونِ ملک سے اسلام آباد پہنچے تو انہیں جوش صاحب کے انتقال کی خبر ملی۔ وہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے براہِ راست قبرستان پہنچے، جہاں احمد فراز، سید شوکت حسین رضوی اور پروفیسر ڈاکٹر مقصود جعفری سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔

جوش ملیح آبادی کی زندگی اور فکر کے حوالے سے ان کے انتقال کے بعد بھی مختلف آرا سامنے آتی رہیں۔ ان کی بے باک شاعری اور بعض نظریاتی مؤقف کے باعث انہیں تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم، ان کے ادبی کام کا دائرہ صرف انقلابی اور مزاحمتی شاعری تک محدود نہیں تھا؛ ان کے کلام میں حمد، نعت، مرثیہ اور دیگر اصناف بھی شامل ہیں۔ یہی تنوع ان کی ادبی شخصیت کو مزید وسعت دیتا ہے۔

جوش صاحب کے بارے میں فیض احمد فیض سے منسوب خراجِ عقیدت بھی اردو ادبی حلقوں میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس روایت کے مطابق فیض صاحب نے جوش کی عظمت اور ادبی مقام کو سراہتے ہوئے ان کی شخصیت کو غیر معمولی قرار دیا تھا۔ یہ خراجِ تحسین اس حقیقت کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ بڑے ادیب اپنے ہم عصر اہلِ قلم کی عظمت کو تسلیم کرنے کا حوصلہ بھی رکھتے ہیں۔

جوش ملیح آبادی کی خود نوشت ’’یادوں کی برات‘‘ اردو نثر کی اہم تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب میں ان کی زندگی کے مختلف ادوار، ادبی شخصیات سے تعلقات، سیاسی و سماجی مشاہدات اور ذاتی تجربات کا ایسا بیان ملتا ہے جو برصغیر کی ادبی و تہذیبی تاریخ کا اہم حوالہ بن چکا ہے۔

جوش ملیح آبادی کی شاعری کا بنیادی وصف ان کا بلند آہنگ اسلوب، الفاظ پر غیر معمولی گرفت، تخیل کی پرواز اور انسانی آزادی سے وابستگی ہے۔ ان کے اشعار میں جبر کے خلاف مزاحمت، انسانی وقار، خودداری اور تبدیلی کی خواہش نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری آج بھی قارئین کو غور و فکر کی دعوت دیتی ہے اور ان کے ادبی مقام کی یاد تازہ کرتی ہے۔

جوش ملیح آبادی کی ایک رباعی ان کی خود اعتمادی، بلند تخیل اور منفرد شعری مزاج کی ترجمانی کرتی ہے:

’’آئے گی جب اس زمیں پہ باری میری

اکسیر بنے گی خاک ساری میری

خود موت بھی منہ کھول کے رہ جائے گی

یوں قبر سے نکلے گی سواری میری‘‘

جوش ملیح آبادی کا ادبی ورثہ محض ان کی شاعری اور نثر تک محدود نہیں، بلکہ وہ اردو زبان کے اظہار، اسلوب اور فکری روایت کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ان کی زندگی اور تخلیقات نئی نسل کے لیے مطالعے کا موضوع ہیں، جبکہ ان کا کلام آج بھی اردو ادب سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے۔