لاہور: لاہور سے سکردو تک کا سفر، برف پوش پہاڑوں کی کشش، پرانی یادیں اور عمر کے آخری حصے میں اپنے محبوب پہاڑوں کی طرف واپسی کی خواہش، مستنصر حسین تارڑ کے سفرنامے ’سلام سکردو‘ کو ایک جذباتی اور ادبی داستان بنا دیتی ہے۔
معروف پاکستانی ادیب، ناول نگار اور سفرنامہ نگار مستنصر حسین تارڑ کے سفرنامے ’سلام سکردو‘ کا اقتباس قاری کو گلگت بلتستان کے حسین قدرتی مناظر، تاریخی مقامات اور پہاڑوں سے جڑی یادوں کی ایک منفرد دنیا میں لے جاتا ہے۔
سفرنامے کے اس حصے میں تارڑ اپنے خوابوں، یادوں اور حقیقی سفر کو اس خوبصورتی سے یکجا کرتے ہیں کہ حشوپی کے سیبوں کے باغات، اشکولے کی قدیم کھڑکیاں، درہ ہیسپر کی برفانی بلندیوں اور خپلو کے تاریخی قلعے کے مناظر قاری کی آنکھوں کے سامنے زندہ ہو جاتے ہیں۔
مصنف اپنے خواب میں سیبوں اور خوبانیوں کی مہک، پرندوں کی چہچہاہٹ اور دریائے برالڈو کی سرگوشیوں کو محسوس کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں شمالی علاقوں کی فطری خوبصورتی محض ایک منظر نہیں، بلکہ ایک ایسی یاد ہے جو وقت گزرنے کے باوجود دل میں زندہ رہتی ہے۔
سفرنامے میں درہ ہیسپر اور سنوسلیک کے برفانی مناظر بھی خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ چاندنی میں چمکتی برف، بلند پہاڑوں کی خاموشی اور برفانی وسعتوں میں تنہائی کا احساس مصنف کی داخلی کیفیت کو نمایاں کرتا ہے۔ اسی طرح خپلو کے قدیم قلعے، چیری کے درختوں اور دھند میں گم ہوتے سفید گھوڑے کی منظرکشی میں وقت، جدائی اور یادوں کا ایک گہرا تاثر ملتا ہے۔
تارڑ اس تحریر میں سندباد جہازی کی داستان کو بھی اپنے سفر سے جوڑتے ہیں۔ خواب میں ایک دیوہیکل پرندہ انہیں برفانی دنیا سے آزادی کی وادیوں کی طرف لے جاتا ہے، لیکن پھر حقیقت سامنے آتی ہے کہ وہ کسی پرندے کے پنجوں میں بندھے نہیں، بلکہ ایک جیٹ طیارے میں سوار ہیں، جو انہیں سکردو لے جا رہا ہے۔
سفرنامے کا سب سے جذباتی پہلو مصنف کی عمر اور پہاڑوں سے ان کی دیرینہ محبت ہے۔ ستاسی برس کی عمر میں اپنے محبوب پہاڑوں کی طرف واپسی کا یہ سفر ان کے لیے محض ایک فضائی سفر نہیں، بلکہ ماضی کی یادوں، فطرت سے تعلق اور اپنے اندر بسنے والی دنیا سے دوبارہ ملاقات کی علامت بن جاتا ہے۔
’میں سکردو جا رہا ہوں، میں لاہور سے براہِ راست سکردو جا رہا ہوں‘ کے احساس میں ایک ایسے مسافر کی خوشی اور بے قراری جھلکتی ہے جو عمر کے کئی موسم دیکھنے کے باوجود اپنے پہاڑوں کی محبت سے آزاد نہیں ہو سکا۔
’سلام سکردو‘ کا یہ اقتباس اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ بعض مقامات انسان کے لیے محض سیاحتی منزلیں نہیں ہوتے، بلکہ اس کی یادوں، خوابوں اور شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ کی تحریر میں سکردو اور اس کے گرد و نواح کے پہاڑ اسی دائمی محبت کی علامت ہیں، جہاں واپسی کا ہر سفر ایک نئی داستان بن جاتا ہے۔
مسودہ مختصر اور خبر نما بنائیںاقتباس کا ادبی تاثر مزید نمایاں کریں