آغا شورش کاشمیریؒ کی 1964ء میں لکھی گئی ایک تحریر

حضرت آغا شورش کاشمیریؒ کی تقریباً 62 سال پہلے لکھی گئی ایک تحریر، جو 1964ء میں ان کے ہفت روزہ چٹان میں شائع ہوئی۔

اس کو آج کے سیاسی، سماجی، ثقافتی، صحافتی اور معاشرتی پس منظر میں پڑھیے اور سوچیے، ہم کہاں کھڑے ہیں۔

شورش صاحب کے بارے میں یہی کہا جا سکتا ہے:

“وہ لوگ ہم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیے

ڈھونڈا تھا آسماں نے جنہیں خاک چھان کر”

⸻

ملائکہ مقربین

عنوانِ بالا بظاہر ثقیل ہے۔ جن سیاست دانوں اور ان کے “پروردگاروں” کی مٹھی میں ملک کا سیاسی نقشہ ہے، وہ عربی، فارسی اور اردو کے الفاظ ایک حد تک سمجھتے، کمتر بولتے اور شاذ ہی پڑھتے ہیں۔ ان کا درجہ بڑا بلند، ان کی عظمت پر ملک کا “سیاسی قرآن” شہادت دیتا ہے اور اس کی آیات پکارتی ہیں کہ یہ معصوم عن الخطا ہیں۔ اسی باعث ہم نے انہیں “ملائکہ مقربین” کا خطاب دیا ہے۔

اگر لوگوں نے سوچنا چھوڑ دیا ہو، اور ان کی عقلوں کو طاعون چاٹ گئی ہو، حتیٰ کہ ایک ان پڑھ قوم کو بآسانی ترغیب و تحریص کے پھندے میں جکڑ لیا جا سکتا ہو، تو ان کارفرمایانِ ملت کو ملائکہ مقربین کے سوا کس سے مماثلت دی جا سکتی ہے۔

یہ لوگ کسی تحریک کی پیداوار نہیں۔ ان کا کوئی مثبت ذہن نہیں۔ ان کے ہاں تنظیم لفظ ضرور بولا جاتا ہے، لیکن تنظیم کی کوئی گھاٹی انہوں نے قطع نہیں کی۔

یہ سانحوں کی پیداوار اور حادثوں کے فرزند ہیں۔ ان کا سارا حدودِ اربعہ یہ ہے کہ راتوں رات اگتے چلے گئے۔ جس سیتا کا خواب نہیں دیکھ سکتے تھے، اس سیتا پر چڑھ کر ربِّ ادنیٰ کہنے لگے۔ الہ دین کے چراغ نے انہیں الف لیلائی ایوانوں کا مختار بنا دیا۔

جب ان کے معدے اختیارات ہضم نہ کر سکے تو سوء ہضم کا شکار ہو کر بدمست ہاتھی کی طرح ایک دوسرے سے الجھ گئے۔ آپس میں گریبانوں کو پھاڑنا شروع کیا۔ دامن چاک کیے، آستینیں چڑھا لیں، عماموں پر خاک ڈالی، قباؤں سے الاؤ جلایا، اپنی ہی آگ پر بیٹھ کر خوب خوب ہاتھ سینکے۔

بادہ خانے کا ایک ایک سبو توڑ ڈالا۔ جس شراب سے سرمست تھے، اسے پرایوں کے ہاتھ رہین رکھ دیا۔

مینا کا گلا گھونٹا، صراحی کا انگ انگ دکھایا۔ ہوش آئی تو عقل پر تہمت باندھی کہ گمراہ ہو گئی ہے۔ میکدے کی در و دیوار کو کوسا کہ اس کی رونق مر چکی اور پلستر اڑ چکا ہے۔

ان کی بڑی سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ کسی طرح بڑے ہو گئے ہیں۔ انہیں اختیارات سے علیحدہ کر کے دیکھنے کی کوشش کیجیے، آپ انہیں کہیں نہیں پائیں گے۔

چند گمراہ الفاظ ان کی زبانوں کا مایۂ گفتار ہیں، جن سے اپنی ذہنی آوارگی کی سبو ڈھالتے ہیں۔

ایک ایک کی صورت دیکھتے جائیے۔ جن چیزوں سے قومیں ابھرتی ہیں، ان میں سے کوئی چیز ان کے کشکول میں نہیں۔

فلاں ملنگ ہے، فلاں اکل کھرا ہے، فلاں پہلودار ہے، فلاں سوچتا ہے، فلاں بولتا ہے، فلاں معتمد ہے، فلاں خوب کھاتا ہے، فلاں پیتا ہے اور گھورتا ہے، فلاں ناچتے ہیں، فلاں خاندانی رئیس ہیں، فلاں سیرچشم ہیں، فلاں دفتری بابو ہیں، فلاں دوستوں کا دوست ہے، فلاں کے گھوڑے اچھے ہیں، فلاں کے گھروں کے انبار ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

لیکن ان میں کوئی عظمت بھی ہے؟

ان میں سے کسی نے تہذیب، ثقافت اور تمدن کے کسی گوشے کو متاثر کیا ہے؟

آغا شورش کاشمیریؒ

ہفت روزہ چٹان — 1964ء