تحریر: ڈاکٹر فاروق عادل

پاکستانی صحافت کی تاریخ میں آغا شورش کاشمیری کا نام جرأت، اصول پسندی اور آزادیٔ اظہار کے لیے جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کی برسی کے موقع پر ان کی کتاب ’’موت سے واپسی‘‘ ایک بار پھر زیرِ بحث ہے، جس میں انہوں نے ایوب خان کے دورِ حکومت میں اپنی گرفتاری، قید و بند کی صعوبتوں اور صحافتی جدوجہد کے حالات قلم بند کیے۔

آغا شورش کاشمیری کو اپریل 1968 میں گرفتار کیا گیا اور وہ 232 روز تک قید میں رہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد ان کے مقبول ہفت روزہ جریدے ’’چٹان‘‘ کا ڈیکلریشن منسوخ کر دیا گیا اور پریس ضبط کر لیا گیا۔ انہیں ڈیرہ اسماعیل خان جیل منتقل کیا گیا، جہاں انہیں سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی کتاب میں آغا شورش کاشمیری نے جیل کے ماحول، قیدیوں کے ساتھ مبینہ ناروا سلوک اور حکام کی سختیوں کی تفصیلات بیان کی ہیں۔

کتاب کے مطابق، نامساعد حالات اور صحت کے مسائل کے باوجود آغا شورش کاشمیری نے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے دورانِ قید چار مرتبہ بھوک ہڑتال کی، جو مجموعی طور پر 51 روز جاری رہی۔ ان کی تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھوک ہڑتال کو محض احتجاج کا طریقہ نہیں بلکہ عزم، قوتِ ارادی اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا امتحان سمجھتے تھے۔

آغا شورش کاشمیری صرف صحافی ہی نہیں بلکہ ایک صاحبِ مطالعہ ادیب اور خطیب بھی تھے۔ ان کا ہفت روزہ ’’چٹان‘‘ اپنے دور میں سیاسی و صحافتی مباحث اور تحریکوں کے حوالے سے اہم مقام رکھتا تھا۔ ان کی تحریروں میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید، شہری آزادیوں کا دفاع اور صحافت کی خودمختاری کا تصور نمایاں نظر آتا ہے۔

ڈاکٹر فاروق عادل کے تحریر کردہ مضمون کے مطابق، آغا شورش کاشمیری کی کتاب ’’موت سے واپسی‘‘ کو علامہ عبد الستار عاصم نے دوبارہ شائع کیا ہے، تاکہ نئی نسل پاکستان کی سیاسی و صحافتی تاریخ کے اس اہم باب سے آگاہ ہو سکے۔ کتاب میں بیان کردہ واقعات آمریت کے دور میں صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو درپیش مشکلات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

آغا شورش کاشمیری کی جدوجہد اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ آزادیٔ صحافت صرف ایک آئینی یا قانونی حق نہیں بلکہ اس کے تحفظ کے لیے اصولی مؤقف، حوصلے اور قربانی کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔ ان کی زندگی اور تحریریں آج بھی صحافیوں، اہلِ قلم اور سیاسی جدوجہد سے وابستہ افراد کے لیے تاریخی اہمیت رکھتی ہیں۔

آغا شورش کاشمیری کی برسی پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کا ایک اہم طریقہ ان کی تحریروں کا مطالعہ اور آزادیٔ صحافت، جمہوری اقدار اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے ان کے کردار کو یاد رکھنا ہے۔