اسلام آباد: پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جنرل محمد ایوب خان کا وفاقی وزیرِ دفاع بننا ایک اہم واقعہ تھا۔ وہ اکتوبر 1958 میں ملک میں مارشل لا نافذ کرکے اقتدار سنبھالنے سے تقریباً چار سال پہلے ہی وفاقی کابینہ کا حصہ بن چکے تھے، جبکہ اس وقت وہ پاک فوج کے کمانڈر اِن چیف بھی تھے۔
24 اکتوبر 1954 کو گورنر جنرل غلام محمد نے وزیراعظم محمد علی بوگرہ کی حکومت کے دور میں دستور ساز اسمبلی تحلیل کردی اور وفاقی کابینہ میں تبدیلیاں کیں۔ نئی کابینہ میں جنرل ایوب خان کو وزیرِ دفاع اور اسکندر مرزا کو وزیرِ داخلہ مقرر کیا گیا۔
ایوب خان کی تقرری اس لیے غیر معمولی تھی کہ وہ وزیرِ دفاع کا منصب سنبھالنے کے ساتھ فوج کے کمانڈر اِن چیف بھی رہے۔ یوں وہ بیک وقت فوجی قیادت اور وفاقی حکومت میں اہم عہدے پر فائز تھے۔ اس پیش رفت کو پاکستان کی ابتدائی سیاسی تاریخ میں فوج اور بیوروکریسی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔
اکتوبر 1958 میں جنرل ایوب خان نے مارشل لا کے نفاذ کے بعد اقتدار سنبھال لیا اور بعد ازاں ملک کے صدر بن گئے۔ ان کا اقتدار میں آنا پاکستان میں فوج کے براہِ راست سیاسی کردار کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوا۔