اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ آصف نے استنبول میں پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کے دوران برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے بیٹھنے کے انداز پر تنقید کی ہے۔
خواجہ آصف نے ہفتے کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ آدابِ نشست کا تقاضا ہے کہ جوتوں کے تلوے اردگرد بیٹھے افراد کو نظر نہ آئیں، خصوصاً کسی باضابطہ ملاقات کے دوران۔
وزیر دفاع نے یہ تبصرہ ایک ایسی تصویر کے حوالے سے کیا جس میں ایڈ ملی بینڈ ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے دکھائی دیتے ہیں اور ان کے جوتے کا تلا اسحاق ڈار کی جانب ہے۔ خواجہ آصف کے بیان پر سوشل میڈیا پر بھی بحث شروع ہوگئی، جہاں بعض صارفین نے سفارتی آداب کے معاملے میں مغربی اور پاکستانی حکام کے ساتھ مختلف رویوں کی نشاندہی کی۔
ملاقات کا پس منظر
اسحاق ڈار اور ایڈ ملی بینڈ کی ملاقات جمعے کو ترکیہ کے شہر استنبول میں وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ دفتر خارجہ کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ برطانوی وزیر خارجہ نے علاقائی امن کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا۔
استنبول اجلاس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کے وزرائے خارجہ شریک ہوئے۔ اجلاس میں امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازع اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی سمیت اہم علاقائی معاملات زیرِ بحث آئے۔
دورے کے دوران اسحاق ڈار نے جرمنی، فرانس، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں۔