اسلام آباد: مولانا ابوالکلام آزاد کی پاکستان کے مستقبل سے متعلق پیش گوئی کے حوالے سے ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے دولخت ہونے کے باوجود مشرقی پاکستان بھارت کا حصہ نہیں بنا بلکہ ایک آزاد مسلم ریاست بن کر سامنے آیا۔
تحریر میں سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے اس بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارت نے دو قومی نظریے کو خلیجِ بنگال میں ڈبو دیا ہے۔ مصنف کے مطابق اس بیان پر خوشی کا اظہار کرنے والوں نے اس حقیقت پر غور نہیں کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بنگلہ دیش ایک الگ اور آزاد مسلم ملک بن گیا۔
تحریر میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کے قیام کی مخالفت کرنے والے مولانا ابوالکلام آزاد کی پیش گوئی میں پاکستان کے ٹوٹنے کا ذکر تو کیا جاتا ہے، تاہم اس پہلو کو نظرانداز کردیا جاتا ہے کہ پاکستان سے الگ ہونے والا مشرقی حصہ بھارت میں ضم ہونے کے بجائے ایک خودمختار ریاست بن گیا۔
مصنف نے قراردادِ پاکستان میں آزاد ریاستوں کی اصطلاح کے استعمال کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس وقت ہندو پریس یا دانشوروں نے اسے دو قومی نظریے سے متصادم قرار نہیں دیا تھا۔